”ایم مبین کےافسانےزندگی کا منظر نامہ“
از:۔ خیال انصاری
”افسانہ ادب کی ایک ایسی صنف ہےجس کو نہ تو اصولوں کےحصار میں قید کیا جا سکتا
ہےاور ننہ ہی اسےمروجہ اصولوںکی کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے“
ایم مبیننی” ٹوٹی چھت کا مکان“میں ”اپنی بات“ کےضمن میں مندرجہ ذیل بالا بات کہی
ہےجو اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔
کسی بھی ادبی فن پارےکا جائزہ لیتےوقت اس کےاصول و ضوابط پر نظر رکھنی ضروری
ہے،لیکن یہ بھی حقیقت ہےکہ اگر کسی فن پارےکو صرف فن اور اصول کی کسوٹی پر پرکھا
جائےتو یہ بھی غلط ہوگا کیونکہ فنی اصول ایک ڈھانچہ ہےاگر اسی ڈھانچےپر عمارت
اٹھائی جائےتو ہر عمارت ایک جیسی ہوگی اور کسی بھی فن میں یکسانیت سب سےبڑا عیب ہی۔
کوئی تحریر یا فن پارہ اسی وقت متوجہ کرتا ہےجب اس میں مصنف کا اپنا کوئی اچھوتا
رنگ،منفرداسلوب اور پیشکش کا نیا انداز شامل ہو ۔یہی باتیں مختلف فنکاروں کو نہ صرف
ایک دوسرےسےعلحدہ کرتی بلکہ انھیں امتیازات عطاکرتی ہیں۔
زندگی کےمسائل ،فسادات، محفوظ چار دیواری کی تمنا ، حصول رزق ، سماجی وسیاسی نا
انصافیاں ،تعصبات پر سینکڑوںافسانےلکھےگئےہیںلیکن ان میں سےچند ہی افسانےقابل ذکر
ہیں اسکی وجہ وہی ہےجو ابتدائی سطور میں بیان کی گئی ہیں۔
ایم مبینجس عصر میں سانسیں لےرہےہیں ،جس سماج اور مٹی سےجڑےہوئےہیں ان کےافسانےان
ہی کےاقاس ہیں ،انھوں نےجو دیکھا جو سوچا جن تجربات وحوادث سےگزرےان کا سچا اظہار
ان کےافسانوں میں ملتا ہے۔
اکسر افسانہ نگاروں نےتخیل کی بنیادوں پر افسانےکی عمارتیں کھڑی کی ہیں یعنی انھو
نےکہانی کو کہانی کی شکل میں پیش کیا ہےجب کہ ایم مبین نےحقائق کو کہانی کےروپ میں
پیش کرنےکی کامیاب کوشش کی ہی۔ کہانی کو کہانی بنانا کوئی دشوار کام نہیں ہےلیکن
حقائق کو کہانی بنانا بڑی فنکاری کاکام ہے۔ایم مبین نےاپنےارد گرد بکھری ہوئی
سچائیوں کو بڑےخوبصورت اور موثر انداز میں اپنےافسانوں کا موضوع بنایا ہی۔
”گردش“ان کا پہلا اور ایک خو بصورت افسانہ ہےممبئی جیسےطڑےشہروں میں سب سےبڑا سماج
اور گھریلوں مسئلہ ہمیشہ سےیہ رہا ہےکہ روزی ، روٹی اوردور کاروبار کی فکر میں
والدین سورج نکلنےسےپہلےگھروں سےنکلتےہےاور رات دیر گئےگھر لوٹتےہیں ،ایسےعالم میں
بچوں کی تعلیم وتربیت ایک بہت بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔عموما بچوں کےبگڑنےکا سبب یہی
ہے۔بچوں اور والدین میں اسی بنا پر ایک طرح کی دوری رہ پاتی ہے۔اور بعض اوقات بچوں
کو والدین کی توجہی کی نہ صرف شکایت پیدا ہوتی ہےبلکہ اکثر بچےاس ماحول میں اس مقام
تک پہنچ جاتےہیں کےان کےدل میں والدین سےمحبت اور احترام کےبجائےایک طرح کی
بیزاریاور نفرت پیدا ہو جاتی ہےاور یہی موڑبچوں کی زندگی میں بےحد خطرناک ہوتا ہےان
کی طبیت اور مزاج
میں بغاوت اور ضد جیسےعناصر نمایا ہونےلگتےہیںاور ایک طرح کا ادم تحفظ اور غیر
یقینی مستقبل کا احساس انہیں پریشان کرنےلگتا ہےاور
Èخری نتیجہ یہ ہوتا ہےکےوہ انتہائی زیادہ
جزباتی،قنوطی،اور بےحس ہو جاتےہیں یا پھر یہ بغاوت نےغیر سماجی عناصر کےحلقوں میں
پہچا دیتی ہی۔
ایم مبین نے”گردش“اسی موضوع سےایک ربط خاص رکھتےہوئےتحریر کیا ہےاور ایک طرح
سےمحفوظ سکن کی حواہش اور حصول کےساتھ اس مسئلہ کو نہ صرف واضح کیا ہےبلکہ ایک حل
بھی پیش کرنےکی کوشش کی ہےاس طرف متوجہ ہونا بےحد ضروری ہےاگر بچوں کی تربیتپر
خصوصی توجہدی جائےتو
Èئندہ چند برسوں ہی میں غیر سماجی عناصر کی تعداد
قابل لحاظ حد تک گھٹ جائےگی ۔گردش نامی افسانہ بلا شبہ ود اہم مسائل پر متوجہ کرتا
ہوا ایک کامیاب افسانہ ہی۔
”دہشت“ ایم مبین۔ کا دوسرا قابل ذکر افسانہ ہی۔ ممبئی جیسے شہر میں زندگی اس قدر
غیر یقینی ہو گئی ہےکہ صبح اگر کوئی گھر سےنکلےتو اسےیقین نہیں ہوتا کےوہ سہی سلامت
گھر پہنچ سکےگا ،فسادات، گینگ وار، انکاونٹر اور مختلف حوادث اہل ممبئی کا مقدر بن
چکےہیں ۔ ایسےماحول میں انسان کا جینا موت سےبتر ہے۔گھر سےنکلنےکےبعد انسان کو
اپنےتحفظ کےساتھ ساتھ اپنےپیچھےاہل وعیال کی سلامتی کی فکر بھی کھائی جاتی ہیں ۔ یہ
خدشات اور تفقرات ایسےہےجو سکون اور اطمینان جیسی نعمتوسےانسان کو محروم کر دیتی
ہیں اتنا ہی نہیںان کادرعمل اس سےزیادہ خطر ناک ہوتا ہےکےوہ مختلف قسم کی ذہنی،قلمی
اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ایسا شخص جب دن بھر روزی روٹی کےچکر
سےنکل کر گھر پہنچتا ہےتو اپنی اور اہل وعیال کی سلامتی پر ایک طویل اطمینان بھری
سانس لیتا ہےاور جب اسےایک نئی زندگی مل جاتی ہے۔ ممبئی میں ہر شخص اس طرح روز جیتا
اور مرتا ہی۔
”حوادث“ بھی ایک تلخ حقیقت کا اظہار ہی۔ انسان کبھی اپنےاور کبھی اپنےاہل وعیال کی
سلامتی اور تحفظ کےخیال سےوہ کام کرتا ہےجو نہیں چایتا اور ساری زندگی ضمیر کی
ملامت کا کا ہدف بنا رہتا ہے۔
حوادث کا کردار”امیت“ بھی ایسی ہی کشمکش کا شکار ہےوہ ایک وتل کا چشم دید گواہ
ہےاور مقتول اس کاعزیز دوست ہی۔ اس کی شدید خواہش ہےکہ قاتل کو ہر حال میں کیفر
کردار تک پہنچایا جائےلیکن حالات ایسےموڑ لیتےہیں کہ وہ اپنےخاندان کی جان کےتحفظ
کی فکر میں پڑ جا تا ہےاس مقام پر ” امیت“ ڈگمگا جاتا ہےاس کا ضمیر اس کی حق بیانی
اس کےسچےجزبات
Èہستہ اہستہ ظلمت میں غم ہو جاتےہےاور
Èخر وہ شناختی پریڈمیں قاتل کو پہچان نہیں پاتا
اگرچہ قاتل صف میں موجود تھا۔
ایم مبین کےتمام انسانوں کی فضاءیہی ہےاور یہ فضائیں اس بات کا واضح اظہار کرتی ہیں
کہ ایم مبین اپنےماحول اور اپنی مٹی سےجڑےہوئےہیں اسی فضاءاور اسی ماحول میں رہ کر
وہ اپنی دنیا اور زمانےکی اصلاح کرنا چاہتےہیں۔
Èئینہ دکھانا چاہتےہیں ۔
مجھےان افسانہ نگاروں سےایم مبین زیادہ بہتر نظر
Èتےہیں جن کےیہاںاپنےماحول اور مسائل سےفرار کی کیفیت نظر
Èتی ہے۔ زندگی کا سن اسی وقت محسوس ہوتا ہےجب وہ
دکھ سکھ اور دیگر انسانی کشمکشوں پر مبنی ہو ۔ زندگی کی دورنگی یہی اصل میں زندگی
ہےاور ایم مبین کےافسانوں میںہر قدم پر ایسی ہی زندگی سےدو چار ہونا پڑتا ہی۔
زندگی کا یہ منظر نامہ ایم مبین کی اہم ترین شناخت ہے اور مجھےامید ہےکہ وقت کےساتھ
ساتھ ”ٹوٹی چھت کا مکان“ ایک
naسودہ اورمحفوظ زندگی کا مظہر بن جائےگا ۔
Want read book?
Tooti Chhat Ka Makan
By:- M.Mubin
Contact:-
Khayal Ansari
Editor Weekly Khair Andesh
Khushamad Pura
MALEGAON
Dist.Thane ( Maharashtra)